کوپ27 کا انعقاد: مشکلات اور مواقعوں سے بھرپور

عنقریب مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کے “فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج” کے فریقین کی ستائیسویں کانفرنس یعنی کوپ27 میں 190 ممالک موسمیاتی بحران کے حل تلاش کرنے کے لیے  بات چیت کریں گے۔

6 سے 18 نومبر تک چلنے والی اس کانفرنس میں کم از کم 35,000 افراد سرکاری اور نجی شعبے کے تحت ہونے والے مذاکرات میں شرکت کریں گے تاکہ عالمی حدت کو 1.5 درجہ سنٹی گریڈ تک محدود کرنے کے ساتھ ساتھ آب و ہوا کے اثرات سے پیدا ہونے والے حالات کے ساتھ مطابقتوں میں اضافہ کرنے کے لیے ماحولیاتی حلوں پر عمل درآمد کی کوششوں کو بھی فروغ دیا جا سکے۔

محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ “صدر بائیڈن کی سربراہی میں آب و ہوا کے بحران سے نمٹنے کے لیے امریکی قیادت ایک لازمی جز بنی رہی ہے اور لازم جز بنے رہنا جاری رکھے ہوئے ہے اور ہم اندرون ملک اور بیرون ملک عملی اقدامات میں اضافہ کرنے کے لیے حکومت کی اجتماعی حکمت عملی  کو متحرک کر رہے ہیں تاکہ دنیا کو 2050 تک آلودگی پیدا کرنے والے اخراجوں کے مکمل خاتمے تک پہنچنے کے راستے پر گامزن کیا جا سکے۔”

خواہش اور جدت طرازی کا وعدہ

مصر کے صدر عبدل فتح السیسی نے اپنے ملک کی کوپ27 کی ویب سائٹ پر ایک بیان میں ترجیحی موضوعات کا خاکہ اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:

“کلیدی توجہ کے حامل اہم شعبوں میں، جدت طرازیوں اور آلودگی سے پاک ٹکنالوجیوں کے ساتھ ساتھ آب و ہوا کے بحران میں پانی اور زراعت کی مرکزیت کا وعدہ بھی شامل ہوگا۔ حیاتیاتی تنوع کے نقصان، توانائی کی منتقلی، کاربن کو ختم کرنے کی کاوشوں اور مالیات کے علاوہ سائنس کے کردار کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔ ”

صدر کا کہنا ہے کہ نوجوانوں، خواتین، سول سوسائٹی اور آبائی لوگوں کی قیادت کو کوپ27 کے بحث مباحثوں میں مرکزی مقام حاصل ہوگا۔

 ہاتھ میں پکڑا ہوا کوپ27 کے نشان والا موبائل فون جبکہ پس منظر میں کوپ27 کا علامتی نشان دکھائی دے رہا ہے (© Rafael Henrique/SOPA Images/LightRocket/Getty Images)
کوپ27 نامی کانفرنس 16 سے 18 نومبر تک شرم الشیخ، مصر میں منعقد کی جائے گی۔ (© Rafael Henrique/SOPA Images/LightRocket/Getty Images)

محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کوپ26 کی رفتار کو تیز تر کرنے کے لیے مصر کے ساتھ مل کر کام کرنے کا متمنی ہے۔

امریکہ پیرس معاہدے کے 190 سے زائد فریقین کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق خواہشات کو آگے لے کر چلنے اور عالمی تعاون کو فروغ دینے کا کام بھی جاری رکھے گا جس میں مندرجہ ذیل اقدامات بھی شامل ہیں:-

  • آلودگی کا باعث بننے والے اخراجوں میں کمی۔
  • موسمیاتی تبدیلیوں سے موافقت پیدا کرنا۔
  • موسمیاتی تبدیلیوں سے جڑے مالیاتی امور۔
  • ٹکنالوجی کی تیاری۔
  • موسمیاتی آفات سے ہونے والی تباہیاں اور نقصانات اور دیگر امور۔

محکمہ خارجہ نے کہا کہ درجہ حرارت کو 1.5 درجہ سنٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے ہدف کو قائم رکھنے کے لیے امریکہ کثیرالجہتی مذاکرات کے ساتھ ساتھ عوامی تقریبات اور دو طرفہ بات چیت میں بھی شرکت کرے گا تاکہ دنیا بھر کے شراکت دار ممالک کی آلودگی پھیلانے والے اخراجوں میں کمی کے اعلٰی اہداف مقرر کرنے اور انہیں حاصل کرنے میں مدد کی جا سکے اور موسمیاتی تبدیلیوں کو برداشت کرنے کی ان کی لچک کو بڑہایا جا سکے۔

صدر بائیڈن نے موسمیاتی تبدیلیوں کے ورچوئل سربراہی اجلاس میں کہا کہ “یہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے، یہ ایک معاشی ذمہ داری ہے۔ یہ سنگین خطرے کی گھڑی ہے؛ بلکہ امکانات کا ایک غیر معمولی لمحہ بھی ہے۔ وقت کم ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم یہ کام کر سکتے ہیں۔ اور مجھے یقین ہے کہ ہم یہ کام کریں گے۔”