مصنفین کے تحفظ اور ثقافت کو محفوظ رکھنے والا امریکہ کا کاپی رائٹ قانون

الفریڈ ہچکاک کی پہلی مقبول فلم، شرلاک ہومز کی تصنیفات کا مجموعہ، لوئس آرمسٹرانگ کے گانے اور 1927 میں شائع ہونے والے ہزاروں دیگر کلاسیکی فن پارے اب کاپی رائٹ کی فہرست سے نکال دیئے گئے ہیں اور انہیں ہر کوئی مفت میں اپنی فنی ضروریات کے مطابق ڈھال سکتا ہے اور اِن سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔

ہر سال یکم جنوری کو امریکہ کے کاپی رائٹ قانون کے تحت لوگوں کے استعمال کے لیے کہانیوں، گانوں اور فلموں کا ایک خزینہ جاری کیا جاتا ہے۔ امریکہ کا کاپی رائٹ کا قانون تخلیق کاروں کی روزی روٹی کو اور اِس خزینے کے آنے والی نسلوں کے استعمال دونوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

2023 کی جاری کردہ فہرست میں 1927 میں شائع ہونے والی ہارڈی بوائز کے پراسرار سلسلے کی پہلی کتاب، ورجینیا وولف کا ناول ٹو دی لائٹ ہاؤس، فرِٹز لینگ کی متاثرکن سائنس فکشن فلم میٹروپولس اور گانا “آئی سکریم، یو سکریم، وی آل اسکریم فار آئس کریم” شامل ہیں۔

کاپی رائٹ کی فہرست میں شامل مواد سے متلعق ‘ڈیوکس سینٹر فار دی سٹڈی آف دی پبلک ڈومین‘ نامی ادارے کی ڈائریکٹر جینیفر جینکنز کے مطابق ہالی ووڈ کی خاموش فلموں سے ناطق فلموں کے دور تک کے سفر میں شامل فلمیں بھی عوام استعمال کے لیے کاپی رائٹ کی فہرست سے نکالی جا رہی ہیں۔

گو کہ گانوں کے اجراء میں براڈوے کے مقبول غنائیہ کھیلوں اور جاز کی موسیقیاں شامل ہیں۔ تاہم جینکنز کہتی ہیں کہ اس سال اِن میں صرف 1923 کی موسیقی کی ترتیب اور گانوں کے بول کا استعمال مفت ہے جبکہ اِن کی اصلی ریکارڈنگز لوگوں کے استعمال کے لیے اگلے سال دستیاب ہوں گیں۔

ایک مقررہ مدت کے بعد آرٹ اور ادب کا مفت استعمال امریکی کاپی رائٹ قانون کا بنیادی اصول ہے۔ اس قانون کے تحت تخلیق کاروں کے اپنے کام کا معاوضہ لینے کے حق کو متوازن بنانے کی کوشش کی گئی ہے اور اس کا مقصد ِاِن ثقافتی اشیاء کو محفوظ رکھنا ہے تاکہ آنے والی نسلیں اِن فن پاروں کو استعمال کر سکیں اور اِن سے لطف اندوز ہوسکیں۔

امریکی آئین کے مطابق کاپی رائٹ املاکِ دانش کے قانون کی ہی ایک شکل ہے جو تصنیف کے اصل کاموں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اِن کاموں میں نظمیں، ناول، گانے، تعمیراتی فن حتٰی کہ کمپیوٹر کے سافٹ ویئر بھی شامل ہیں۔ دانشورانہ املاک کے قانون کی دیگر شکلوں میں پیٹنٹ اور ٹریڈ مارک شامل ہیں جن کے تحت ایجادات اور اشتہارات میں استعمال ہونے والی علامتوں یا نعروں کو تحفظ حاصل ہوتا ہے۔

بلا شرکت غیرے حقوق کی مدت اور بعد میں استعمال کی آزادی، کاپی رائٹ قانون کے دو اہم پہلو ہیں اور یہ دونوں پہلو تخلیق کاروں کے لیے سہولتیں پیدا کرتے ہیں۔ جب کاپی رائٹ کا قانون نافذ العمل ہوتا ہے تو مصنفین اپنی تحریروں کے پیسے وصول کر سکتے ہیں۔

ناول نگاروں، شاعروں، مورخین اور صحافیوں کی نمائندگی کرنے والی مصنفین کی انجمن کا کہنا ہے کہ “کاپی رائٹ کا موثر تحفظ پیشہ ورانہ تصنیف و تالیف کا بنیادی ستون ہے۔ یہ مصنفین کو تحریروں کو روزگار کا ذریعہ بنانے کا حق دیتا ہے۔”

کاپی رائٹ کے قانون سے ادب کو آزاد کرنے سے پرانے گانوں اور کہانیوں کی دستیابی بڑھ جاتی ہے اور نئی تخلیقات میں ان کے استعمال کی قانونی اجازت حاصل ہو جاتی ہے۔ ممتاز ادبی نقاد نارتھروپ فرائی نے کہا کہ “شاعری صرف دوسری شاعری کو دیکھ کر ہی تخلیق کی جا سکتی ہے [اور] ناول دوسرے ناولوں کو دیکھ کر تخلیق کیے جا سکتے ہیں۔”

جیسا کہ جینکنز کہتی ہیں کہ “عوامی سطح پر دستیاب تصانیف تخلیقیت کا سرچشمہ بھی ہوتی ہیں۔ کاپی رائٹ کا بنیادی  مقصد تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے اور اس سلسلے میں عوامی سطح پر دستیابی مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔”