ریلوے لائنوں سے سائکلیں چلانے والے راستوں تک

جنگل میں دریا کے قریب راستے پر ایک سائیکل سوار (© Jumping Rocks/Universal Images Group/Getty Images)
ایک سائیکل سوار جم تھورپ، پنسلوانیا کے قریب پوکونوس میں لی ہائی گورج نامی راستے پر سائیکل چلا رہا ہے۔ (© Jumping Rocks/Universal Images Group/Getty Images)

امریکہ میں ہزاروں کلومیٹر طویل ریل کی ایسی پٹڑیاں ہیں جو اب  ٹرینوں کے لیے استعمال نہیں ہوتیں۔

“ریلز ٹو ٹریلز” کے نام سے ایک غیر سرکاری تنظیم، مقامی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ملک کے مشرقی ساحل سے لے کر مغربی ساحل تک پھیلی پرانی ریلوے لائنوں کو ٹریلز یعنی راستوں میں تبدیل کر کے  پارکوں کا نظام  ترتیب دے رہی ہے۔

اب تک یہ تنظیم 56,327 کلومیٹر طویل نئے راستے بنا چکی ہے  اور اُن کا منصوبہ 12,875 کلومیٹر مزید راستے بنانے کا ہے۔

محض ایک پراجیکٹ یعنی “گریٹ امریکن ریل ٹریل” کے تحت 12 ریاستوں اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں سائیکل  چلانے، دوڑنے اور پیدل چلنے کے لیے مجموعی طور پر 3,219 کلومیٹر سے زیادہ لمبا پارک وے کا ایک نظام بنایا گیا ہے۔

پل پر سے گزرتا ہوا ایک سائیکل سوار (© Education Images/Universal Images Group/Getty Images)
ایک سائیکل سوار 2019 میں ریاست شمالی آئیڈاہو کے ہیبرن سٹیٹ پارک میں “کر ڈیلین” نامی راستے پر سائیکل چلاتے ہوئے چیٹکولیٹ جھیل کو عبور کر رہا ہے۔ (© Education Images/Universal Images Group/Getty Images)

یہ تنظیم 2,736 کلومیٹر اضافی راستے بنانا چاہتی ہے جس کے ذریعے وہ راستے مکمل ہو جائیں گے جو ملک کے ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک 12 ریاستوں کو آپس میں ملائیں گے۔ اس کے بعد اِن راستوں کی مجموعی لمبائی بڑھکر  5,956 کلو میٹر ہو جائے گی۔

ریلز ٹو ٹریلز کے کیون بیلینجر کا کہنا ہے کہ اِن راستوں سے “50 ملین ایسے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا جو اِن سے 50 میل کے اندر رہتے ہیں۔ [اس کے علاوہ] لاکھوں امریکی اور غیرملکی ایسے سیاح بھی اس سے لطف اندوز ہو سکیں گے جو ملک کے متنوع مناظر اور کمیونٹیوں کے متلاشی ہوتے ہیں۔”